عقد ثانی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - دوسری شادی، دوسرا نکاح۔ "غالب نے کہیں بھی دوسری شادی کرنا تو کجا عقد ثانی کے خیال کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عقد' بطور موصوف اور عربی ہی سے مشتق صفت عددی 'ثانی' لگانے سے مرکب توصیفی 'عقدِ ثانی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٢٢ء کو "گوشہ عافیت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دوسری شادی، دوسرا نکاح۔ "غالب نے کہیں بھی دوسری شادی کرنا تو کجا عقد ثانی کے خیال کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٢٩ )

جنس: مذکر